Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تذبذب

پرشوتم دیپ

تذبذب

پرشوتم دیپ

MORE BYپرشوتم دیپ

    چاندنی مضمحل تھی تا بہ نظر

    اور آوارہ چاند ٹھٹھرا ہوا

    دور برگد کے پھیلے پیڑوں میں

    ڈھانپتا پھر رہا تھا عریانی

    سہمی سہمی تھی رات کی دیوی

    اور تارے فلک کے دامن پر

    بکھرے تھے جیسے خون کے چھینٹے

    میرے ماتھے کے دیپ بجھنے لگے

    اور احساس کی تڑپتی ہوا

    اتنی شدت سے چیخی چلائی

    میری آنکھوں کی جادو نگری میں

    کھل گئے چند اور دروازے

    میں نے دیکھا

    زمیں پہ تا بہ نظر

    میرے آگے ستارے بکھرے تھے

    اور ہنستا ہوا سجیلا چاند

    میرے قدموں سے کچھ ذرا آگے

    اک اڑن طشتری سی لگتا تھا

    جس سے کچھ اجنبی سے سیمیں ہاتھ

    اپنی جانب مجھے بلاتے تھے

    میں نے اک سرد آہ بھر کے کہا

    کیسے آؤں وہاں میں عریاں ہوں

    چاند نے مسکرا کے مجھ سے کہا

    بے خطر ہو کے آگے بڑھتا آ

    چاندنی کی یہ ریشمیں چادر

    ڈھانپ لے گی تمام عریانی

    ڈگمگا کر میں جوں ہی آگے بڑھا

    میری ہاری ہوئی تمنائیں

    میرا شانہ جھنجھوڑ کر بولیں

    کس طرف جا رہا ہے اے پگلے

    تیرے آگے عجیب دریا ہے

    جس کے شفاف نیلے پانی میں

    عکس ہی عکس ہیں فضاؤں کے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے