نمبر گیم
ہر ایک شخص منفرد ہے اپنی اپنی ذات میں
ہر ایک سوچ مختلف ہے ساری کائنات میں
ہر آدمی بذات خود الگ ہی کائنات ہے
جو شخصیت کے ڈھنگ ہیں
یہ زندگی کے رنگ ہیں
خوشی کی جل ترنگ ہیں
مگر یہ کیسا روگ ہے
یہ کیسا ابتذال ہے
گنے گئے ہیں آدمی
نہ سوچ کی پرکھ کہیں
نہ خواب مستند کوئی
کہ آدمی کی شخصیت
خیال آگہی خرد
جنون عشق اور طرب
حقیر تر ہیں سب کے سب
نہیں جناب آپ کی دلیل بے اساس ہے
خلش بلا جواز ہے
خیال جانچنے کا اور شعور ناپنے کا انتظام لا جواب ہے
جدیدیت کا دور ہے بلا کا ارتباط ہے
جدیدیت کی تال پر
خیال اور شعور کے
تمام نقد و زاویے
عدد پہ منطبق ہوئے
شماریات بن گئے
ستائش جمال یار نسبتوں سے اٹ گئی
نزاکت مزاج بھی اکائیوں میں بٹ گئی
سخن طراز و نغمہ گر خموشیوں میں کھو گئے
ہزارہا جو رنگ تھے سیہ سفید ہو گئے
سماج کی حقیقتوں پہ کیسے تبصرہ کریں
معاشرے کے روز و شب کا کس سے تذکرہ کریں
الجھ گئی جو سوچ کی گرہ وہ کھولتے رہیں
اشاریوں کے کھردرے بدن ٹٹولتے رہیں
خیال بانجھ ہو گئے طلب کی ایسی دھن لگی
ہوس کی آندھیوں میں گھر کے رہ گئی ہے زندگی
عدد میں برتری کی جستجو سے ہانپتی ہوئی
اشاریوں کے بوجھ سے لرزتی کانپتی ہوئی
یہ دور نو کی آگہی
ہمارے خواب کھا گئی
کہ آج کا یہ آدمی
کبھی جو اک وجود تھا
عدد میں منقلب ہوا
عدد ہی بن کے رہ گیا
یقین ہے سراب ہے
عدد ہی کل نصاب ہے
کہ منطقوں کے جال میں خرد کا اک مزار ہے
شمار در شمار در شمار در شمار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.