Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نمبر گیم

سلمان ثروت

نمبر گیم

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    ہر ایک شخص منفرد ہے اپنی اپنی ذات میں

    ہر ایک سوچ مختلف ہے ساری کائنات میں

    ہر آدمی بذات خود الگ ہی کائنات ہے

    جو شخصیت کے ڈھنگ ہیں

    یہ زندگی کے رنگ ہیں

    خوشی کی جل ترنگ ہیں

    مگر یہ کیسا روگ ہے

    یہ کیسا ابتذال ہے

    گنے گئے ہیں آدمی

    نہ سوچ کی پرکھ کہیں

    نہ خواب مستند کوئی

    کہ آدمی کی شخصیت

    خیال آگہی خرد

    جنون عشق اور طرب

    حقیر تر ہیں سب کے سب

    نہیں جناب آپ کی دلیل بے اساس ہے

    خلش بلا جواز ہے

    خیال جانچنے کا اور شعور ناپنے کا انتظام لا جواب ہے

    جدیدیت کا دور ہے بلا کا ارتباط ہے

    جدیدیت کی تال پر

    خیال اور شعور کے

    تمام نقد و زاویے

    عدد پہ منطبق ہوئے

    شماریات بن گئے

    ستائش جمال یار نسبتوں سے اٹ گئی

    نزاکت مزاج بھی اکائیوں میں بٹ گئی

    سخن طراز و نغمہ گر خموشیوں میں کھو گئے

    ہزارہا جو رنگ تھے سیہ سفید ہو گئے

    سماج کی حقیقتوں پہ کیسے تبصرہ کریں

    معاشرے کے روز و شب کا کس سے تذکرہ کریں

    الجھ گئی جو سوچ کی گرہ وہ کھولتے رہیں

    اشاریوں کے کھردرے بدن ٹٹولتے رہیں

    خیال بانجھ ہو گئے طلب کی ایسی دھن لگی

    ہوس کی آندھیوں میں گھر کے رہ گئی ہے زندگی

    عدد میں برتری کی جستجو سے ہانپتی ہوئی

    اشاریوں کے بوجھ سے لرزتی کانپتی ہوئی

    یہ دور نو کی آگہی

    ہمارے خواب کھا گئی

    کہ آج کا یہ آدمی

    کبھی جو اک وجود تھا

    عدد میں منقلب ہوا

    عدد ہی بن کے رہ گیا

    یقین ہے سراب ہے

    عدد ہی کل نصاب ہے

    کہ منطقوں کے جال میں خرد کا اک مزار ہے

    شمار در شمار در شمار در شمار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے