Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جھوٹ

MORE BYرضی اختر شوق

    میں نے بچپن میں سنا تھا کہ اسی دنیا میں

    جس میں ہم رہتے ہیں پریوں کے طلسمات بھی ہیں

    جن کے بارے میں بزرگوں کی روایات بھی ہیں

    ایسی پریاں کہ جو راتوں میں سفر کرتی ہیں

    چاند میں پھرتی ہیں خوشبو میں بسر کرتی ہیں

    ان کو مل جائے جو درماندہ مسافر کوئی

    اس کو پھر اپنے پرستان میں لے جاتی ہیں

    ریشم و اطلس و کم خواب اسے پہناتی ہیں

    اس کی دلجوئی کے سامان بہم کرتی ہیں

    مہرباں ہوتی ہیں دل داریٔ غم کرتی ہیں

    میں بڑے شوق سے بچپن میں سنا کرتا تھا

    بے صدف راہ میں موتی بھی پڑے ملتے ہیں

    ریت کی تہہ میں جواہر بھی دبے ملتے ہیں

    انہی گلیوں میں وہ پوشیدہ ذخیرے بھی ہیں

    جن میں نیلم بھی ہیں یاقوت بھی ہیرے بھی ہیں

    جن کو ہر شخص اٹھا سکتا ہے پا سکتا ہے

    اپنی راتوں کو چراغاں بھی بنا سکتا ہے

    یہ روایت بھی سنی تھی کہ کوئی مرد خدا

    راہ گم کردہ مسافر کو پریشاں پا کر

    غیب سے عقدہ کشائی کے لیے آتا ہے

    میں بڑا ہو کے جب اس شہر فسوں گر میں چلا

    میں نے چاہا کہ مجھے راہ میں پریاں مل جائیں

    اک پرستان میں تقدیر کی کلیاں کھل جائیں

    کسی صورت مری دلجوئی کا ساماں ہو جائے

    میرے زخموں کا مداوا کسی عنواں ہو جائے

    مجھ کو پریاں تو کجا شہر میں سایا نہ ملا

    میں نے چاہا مجھے پوشیدہ ذخیرے مل جائیں

    وہی نیلم، وہی موتی وہی ہیرے مل جائیں

    خیر وہ نیلم و پکھراج تو کیا مل سکتے

    کوئی پتھر نہ ملا جس سے میں سر پھوڑ سکوں

    عمر بھر دشت و بیاباں میں بھٹکتا ہی پھرا

    اور پھر چاہا کہ دکھ اپنے کسی سے کہہ لوں

    راہ میں کوئی بھی اللہ کا بندہ نہ ملا

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے