جھوٹ
میں نے بچپن میں سنا تھا کہ اسی دنیا میں
جس میں ہم رہتے ہیں پریوں کے طلسمات بھی ہیں
جن کے بارے میں بزرگوں کی روایات بھی ہیں
ایسی پریاں کہ جو راتوں میں سفر کرتی ہیں
چاند میں پھرتی ہیں خوشبو میں بسر کرتی ہیں
ان کو مل جائے جو درماندہ مسافر کوئی
اس کو پھر اپنے پرستان میں لے جاتی ہیں
ریشم و اطلس و کم خواب اسے پہناتی ہیں
اس کی دلجوئی کے سامان بہم کرتی ہیں
مہرباں ہوتی ہیں دل داریٔ غم کرتی ہیں
میں بڑے شوق سے بچپن میں سنا کرتا تھا
بے صدف راہ میں موتی بھی پڑے ملتے ہیں
ریت کی تہہ میں جواہر بھی دبے ملتے ہیں
انہی گلیوں میں وہ پوشیدہ ذخیرے بھی ہیں
جن میں نیلم بھی ہیں یاقوت بھی ہیرے بھی ہیں
جن کو ہر شخص اٹھا سکتا ہے پا سکتا ہے
اپنی راتوں کو چراغاں بھی بنا سکتا ہے
یہ روایت بھی سنی تھی کہ کوئی مرد خدا
راہ گم کردہ مسافر کو پریشاں پا کر
غیب سے عقدہ کشائی کے لیے آتا ہے
میں بڑا ہو کے جب اس شہر فسوں گر میں چلا
میں نے چاہا کہ مجھے راہ میں پریاں مل جائیں
اک پرستان میں تقدیر کی کلیاں کھل جائیں
کسی صورت مری دلجوئی کا ساماں ہو جائے
میرے زخموں کا مداوا کسی عنواں ہو جائے
مجھ کو پریاں تو کجا شہر میں سایا نہ ملا
میں نے چاہا مجھے پوشیدہ ذخیرے مل جائیں
وہی نیلم، وہی موتی وہی ہیرے مل جائیں
خیر وہ نیلم و پکھراج تو کیا مل سکتے
کوئی پتھر نہ ملا جس سے میں سر پھوڑ سکوں
عمر بھر دشت و بیاباں میں بھٹکتا ہی پھرا
اور پھر چاہا کہ دکھ اپنے کسی سے کہہ لوں
راہ میں کوئی بھی اللہ کا بندہ نہ ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.