دھواں
پھر اسی راہ سے گزرا ہوں جہاں
رات بھر زخم وفا کی صورت
اک دریچہ سا کھلا رہتا تھا
ایک دیوار پہ نیم آویزاں
چند گزرے ہوئے خوابوں کی کتاب
ایک تصویر تھی ماضی کا حساب
جس پر اندیشۂ فردا بن کر
کوئی سایا سا جھکا رہتا تھا
کسی نوخیز تمنا کی طرح
کوئی قندیل جلا کرتی تھی
جس کے ابھرے ہوئے شعلے سے ہوا
راز دارانہ ملا کرتی تھی
کچھ عجب رنگ کی بستی تھی وہ
کوئی موسم ہو مہکتی تھی وہ
کچھ عجب لوگ تھے آباد وہاں
اپنے خوابوں میں خیالوں میں مگن
ایسے شاداب کہ شاداب بہت
ایسے خوش باش کہ سورج کی کرن
ایسے نایاب کہ نایاب بہت
کچھ برس بعد مسافر کی طرح
پھر اسی راہ سے گزرا ہوں مگر
دیکھتا کیا ہوں کہ وہ لوگ نہیں
ایک وحشت ہے سر راہ گزر
نہ وہ بستی ہے نہ بستی کے مکیں
نہ وہ تصویر نہ دیوار نہ در
نہ وہ سایا نہ وہ قندیل کہیں
نہ وہ خوشبو نہ ہواؤں کا سفر
اور ہی بوجھ لیے ہے وہ زمیں
اس وفا کیش دریچے کی جگہ
سنگ و فولاد کے رشتے سے بندھی
کوئی سفاک کوئی دشمن جاں
ایک پر ہیچ عمارت ہے جہاں
دیکھتا ہوں تو ترس آتا ہے
ایسے بے کل ہیں ہزاروں انساں
موم کی طرح پگھلتے ہیں بدن
اور رہ رہ کے نکلتا ہے دھواں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.