مقدس دیوالی
دیپ ارماں جلانے لگے ہیں
بام و در جگمگانے لگے ہیں
غم کے مارے ٹھکانے لگے ہیں
رام دھن مل کے گانے لگے ہیں
جام کوئی نہیں آج خالی
آ گئی پھر مقدس دیوالی
ہو رہے ہیں مسرت کے ساماں
ہے اجودھیا میں ہر سو چراغاں
سج رہے ہیں دلوں کے گلستاں
ہر روش ہے درخشاں درخشاں
شام ہے چندرما کی اجالی
آ گئی پھر مقدس دیوالی
رام نے رن میں لنکا کو جیتا
ایک جگ جن کا جنگل میں بیتا
آ گئیں ساتھ لچھمن کے سیتا
بہہ رہی ہے خوشی کی سریتا
سرخ رو ہے گلستاں کا مالی
آ گئی پھر مقدس دیوالی
جام خوشیوں کے بھر کر اچھالو
سارے ارمان دل کے نکالو
ایک ہو کر اندھیروں کو ٹالو
اے دیوالی کے دلکش اجالو
دیش ماتا بنی ہے سوالی
آ گئی پھر مقدس دیوالی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.