Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بستر میں

نذیر احمد ناجی

بستر میں

نذیر احمد ناجی

MORE BYنذیر احمد ناجی

    شام کے کھانے کے بعد

    کچھ گھریلو مسئلوں پر گفتگو ہوتی رہی

    بھائی کو کالج کی اس تقریب کی خاطر رپئے درکار تھے

    فکر تھی امی کو کیسے ہو سکے گا پورا نجمہ کا جہیز

    اور ابا سوچتے تھے کس طرح سنبھلے بگڑتا کاروبار

    ٹھیک ہے ان سب کی سوچیں زندگی کا جبر ہیں

    کیسے جی سکتا ہے کوئی اس طرح سوچے بغیر

    پر خدا جانے مجھے کیا ہو گیا تھا ایک بھی لمحے کو میں

    اپنے کنبے کے مسائل میں نہ شامل ہو سکا

    اور سارا وقت گزرا بس اسی اک دھیان میں

    میں نے جو پودا لگایا ہے چنبیلی کا یہاں

    کل کھلیں گی اس پہ پہلی بار کلیاں صبح دم

    دیکھ کر ان کو کھل اٹھوں گا خوشی کے ساتھ میں

    ساتویں دن خود خدا شاید نہ اتنا مست ہو

    جس قدر مستی کا امکاں ہے مجھے کل صبح کو

    آنکھ کیوں اب تک کھلی ہے نیند کیوں آتی نہیں

    کوئی دکھ بھی تو نہیں ہے جو جگائے رات بھر

    ہاں بس اب بتی بجھا کر سو ہی جانا چاہیے

    صبح کو ننھی چنبیلی پر لگی ہوں گی

    سجیلی نرم کلیاں پہلی بار

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے