بستر میں
شام کے کھانے کے بعد
کچھ گھریلو مسئلوں پر گفتگو ہوتی رہی
بھائی کو کالج کی اس تقریب کی خاطر رپئے درکار تھے
فکر تھی امی کو کیسے ہو سکے گا پورا نجمہ کا جہیز
اور ابا سوچتے تھے کس طرح سنبھلے بگڑتا کاروبار
ٹھیک ہے ان سب کی سوچیں زندگی کا جبر ہیں
کیسے جی سکتا ہے کوئی اس طرح سوچے بغیر
پر خدا جانے مجھے کیا ہو گیا تھا ایک بھی لمحے کو میں
اپنے کنبے کے مسائل میں نہ شامل ہو سکا
اور سارا وقت گزرا بس اسی اک دھیان میں
میں نے جو پودا لگایا ہے چنبیلی کا یہاں
کل کھلیں گی اس پہ پہلی بار کلیاں صبح دم
دیکھ کر ان کو کھل اٹھوں گا خوشی کے ساتھ میں
ساتویں دن خود خدا شاید نہ اتنا مست ہو
جس قدر مستی کا امکاں ہے مجھے کل صبح کو
آنکھ کیوں اب تک کھلی ہے نیند کیوں آتی نہیں
کوئی دکھ بھی تو نہیں ہے جو جگائے رات بھر
ہاں بس اب بتی بجھا کر سو ہی جانا چاہیے
صبح کو ننھی چنبیلی پر لگی ہوں گی
سجیلی نرم کلیاں پہلی بار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.