مہک
مرے وطن تری مٹی کی سوندھی سوندھی مہک
گل ارم کی مہک سے عزیز تر ہے مجھے
یہ سوندھی سوندھی مہک ذہن میں ابھارتی ہے
مرے اب و جد عالی کے تابناک نقوش
مرے اب و جد عالی کہ جن کی عظمت نے
یہاں جلائے تھے عرفان و آگہی کے چراغ
وفا و مہر و محبت کے آشتی کے چراغ
وطن کی عزت و ناموس کے خودی کے چراغ
چراغ جن کو فروزاں کیا بہ فیض جنوں
مرے اب و جد عالی نے اپنا خوں دے کر
وہ خون جس میں حرارت تھی اور نور بھی تھا
جوان امنگوں کا نشہ بھی تھا شعور بھی تھا
مرے وطن تری مٹی کی سوندھی سوندھی مہک
گل ارم کی مہک سے عزیز تر ہے مجھے
یہ سوندھی سوندھی مہک ذہن میں ابھارتی ہے
مرے جیالے رفیقوں کے تابناک نقوش
مرے جیالے رفیق آہنی ارادہ لیے
جو رہ گذار نیا گاں پہ گامزن ہو کر
جہاں سے داد شجاعت قبول کرتے ہوئے
لہو کا آتشیں نذرانہ دے گئے ہیں ابھی
کہ بجھ نہ جائیں کہیں باد جبر کے ہاتھوں
چراغ جن کو فروزاں کیا بہ فیض جنوں
مرے اب و جد عالی نے اپنا خوں دے کر
اور آج جن کی ضیا ہے مری بقا کی امیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.