ایک سوال
اس نے پوچھا
کون ہو تم
لاکھ سوالوں کا اک جتھا
جیسے مجھ پہ ٹوٹ پڑا تھا
اک دن اک دیوار پہ اس نے حرف بکھیرے
اور چہرے پہ رنگ سجا کر
پھر ہنس ہنس کے پوچھ لیا تھا
کیا لکھا ہے
میں نے اس دیوار کو دیکھا
نام پڑھے
کچھ نقش سمیٹے
سیمنٹ اکھڑا
ریت گری
اک جملہ گونجا کیا سوچا ہے
ریت پہ مبہم نقش بنائے
پھر چپکے سے آڑے ترچھے نقش سمیٹے
اور پچھم میں ڈوب گیا میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.