پشیماں
مشیت نے ہواؤں پر مرا چہرہ لکھا
خال و خط و نقش و نگار و جسم و دل
افکار پھونکے روح بخشی جذبے ٹپکائے نگاہوں میں
تری قدرت نے اک پیکر اتارا
خامشی کی گود میں
تنہائی کے آنچل نے ڈھانپا
سبز جنگل کتنا گہرا کتنا ٹھنڈا اور اندھیرا
چپ بہت گنجان ہے
نیلی خلائیں سانس لیتی ہیں
مرے آنسو پڑھے جاتے ہیں جذبے ناپے جاتے ہیں
مرے دکھ کو مگر تولا نہیں جاتا
زباں پر قفل ہے جو زنگ خوردہ ہے
اسے توڑا تو جاتا ہے مگر کھولا نہیں جاتا
کرن کے پیچھے اک تتلی وہ لپکی
آنکھ کیوں جھپکی
قطاریں باندھے نیلے آسماں کے نیچے نیچے دھوپ میں رنگیں
وہ اجلے سونے چاندی کے سے بادل کیوں اڑے
جاتے ہیں کس جانب
مگر جنگل ہے گہرا زرد ٹھنڈا اور اندھیرا
شام ہے اندر ہی اندر ٹوٹتی ہے زندگی
اب لوٹ اپنے آپ میں اب لوٹ آ
میں لوٹ آئی اور اپنے سامنے آئی تو لمحہ اڑ گیا
وہ لمحہ جب میرے خدا نے میرے پیکر کو تراشا
اور زمیں کی سمت یوں رخصت کیا
جیسے پشیماں ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.