آکاش میں شبد
تو کیا میرے بارے میں تم بھی یہی سوچتی ہو
ہزاروں برس کی رفاقت غلط
میں نے مانا
کہ لمحوں کے جادو کا سنگیت میں نے سنا ہے
مگر اس سمندر سے پوچھو
جسے ایک ہی گھونٹ میں پی گیا تھا
اگر دیکھنا چاہتی ہو
تو رخسار پر چاند کے
میرے بوسے کا مدھم نشاں
آج بھی میری جرأت پہ ہیبت زدہ ہے
اگر ہو سکے تو
کسی تیز خنجر سے نس نس مری کاٹ دو
اور لہو سارا صحراؤں کو بخش دو
اور سنو
اک لطیفہ سنو
جب مری لاش پر رقص کرتے ہوئے
تھک کے گرنے لگو گی
تو خود کو مرے بازوؤں میں تڑپتا ہوا پاؤگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.