وکٹوریہ میموریل
چلو آج دنیا کو دیکھیں
یہ وکٹوریہ کا محل ہے
مگر اب یہ تفریح کا ایک مرکز ہوا ہے
لباسوں کتابوں قلم اور تلوار کی اک نمائش لگی ہے
کئی قیمتی اور نایاب دفتر کھلے ہیں
کہ جن میں کئی لاٹ صاحب کی تحسین میں کچھ قصیدے لکھے ہیں
فرامین شاہی میں دیمک لگی ہے
کئی پینٹنگ میں رعایا جو موجود ہیں حاشیے پر کے ہونٹوں پہ پتھر لگے ہیں
جبیں پر چراغوں کی روشن لڑی ہے
مگر ان کے نیچے سیاہی کھڑی ہے
بڑے شوق و حسرت سے سیاح دیکھے مگر چھو نہ پائے
حقیقت عیاں ہو نہ جائے
محل کے شہہ در پہ وکٹوریہ سنگ مرمر پہ بیٹھی ہوئی ہے
کوئی ہونٹ چومے کوئی گدگدی بھی لگائے
خموشی سے دیکھے زباں تک نہ کھولے
ذرا دور ہگلی ندی اپنی رفتار سے بہہ رہی ہے
ہزاروں برس کے تموج کے قصے کو سنتی سناتی چلی آ رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.