Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وکٹوریہ میموریل

جاوید ہمایوں

وکٹوریہ میموریل

جاوید ہمایوں

MORE BYجاوید ہمایوں

    چلو آج دنیا کو دیکھیں

    یہ وکٹوریہ کا محل ہے

    مگر اب یہ تفریح کا ایک مرکز ہوا ہے

    لباسوں کتابوں قلم اور تلوار کی اک نمائش لگی ہے

    کئی قیمتی اور نایاب دفتر کھلے ہیں

    کہ جن میں کئی لاٹ صاحب کی تحسین میں کچھ قصیدے لکھے ہیں

    فرامین شاہی میں دیمک لگی ہے

    کئی پینٹنگ میں رعایا جو موجود ہیں حاشیے پر کے ہونٹوں پہ پتھر لگے ہیں

    جبیں پر چراغوں کی روشن لڑی ہے

    مگر ان کے نیچے سیاہی کھڑی ہے

    بڑے شوق و حسرت سے سیاح دیکھے مگر چھو نہ پائے

    حقیقت عیاں ہو نہ جائے

    محل کے شہہ در پہ وکٹوریہ سنگ مرمر پہ بیٹھی ہوئی ہے

    کوئی ہونٹ چومے کوئی گدگدی بھی لگائے

    خموشی سے دیکھے زباں تک نہ کھولے

    ذرا دور ہگلی ندی اپنی رفتار سے بہہ رہی ہے

    ہزاروں برس کے تموج کے قصے کو سنتی سناتی چلی آ رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے