چلو اس کو ڈھونڈیں
ابھی وقت ہے جاگنے کا
ابھی عمر قائم ہے اور ذہن
اور جسم بھی ساتھ دیں گے
مگر بعد میں تو فقط نیند اور نیند ہوگی
ابھی وقت ہے سوچنے کا
لباس اور چہرے کا پردہ اٹھانے
اسے دیکھنے کا
اسے جو کبھی گھر کے اندر تھا
حاضر تھا اب گہرے پانی کے اوپر
جھکے بادلوں سے پرے دور اور دور گم ہے
نگاہوں کے آگے تنی روشنی
اور اندھیرے کا سایہ اٹھا کر
گرے زرد پتوں سے تپتی ہوئی دھوپ
اور پھیلے پانی سے جمتی ہوئی بھاپ
اور اندھی آندھی سے جلتی ہوئی آگ
تک ڈھونڈنے کا
کسی نے پہاڑی پہ اور دوسرے نے
کہیں غار میں اس کو دیکھا
کبھی وہ ہمارے دلوں میں تھا
پھر لوگ کہتے ہیں ذہنوں میں آیا
ہر اک سوچ میں دھند بن کر سمایا
مگر اب کہاں ہے
چلو نیل دجلہ
چلو اونچے اونچے پہاڑوں
چلو بادلوں پانیوں میں جھکیں
اس کو ڈھونڈیں
ابھی عمر قائم ہے اور اپنے چہروں
کے پردے اٹھانے کا یارا بھی ہے
بعد میں کون جانے کسے اتنی فرصت ہو
اور نیند سے کون جاگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.