Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چلو اس کو ڈھونڈیں

فاروق حسن

چلو اس کو ڈھونڈیں

فاروق حسن

MORE BYفاروق حسن

    ابھی وقت ہے جاگنے کا

    ابھی عمر قائم ہے اور ذہن

    اور جسم بھی ساتھ دیں گے

    مگر بعد میں تو فقط نیند اور نیند ہوگی

    ابھی وقت ہے سوچنے کا

    لباس اور چہرے کا پردہ اٹھانے

    اسے دیکھنے کا

    اسے جو کبھی گھر کے اندر تھا

    حاضر تھا اب گہرے پانی کے اوپر

    جھکے بادلوں سے پرے دور اور دور گم ہے

    نگاہوں کے آگے تنی روشنی

    اور اندھیرے کا سایہ اٹھا کر

    گرے زرد پتوں سے تپتی ہوئی دھوپ

    اور پھیلے پانی سے جمتی ہوئی بھاپ

    اور اندھی آندھی سے جلتی ہوئی آگ

    تک ڈھونڈنے کا

    کسی نے پہاڑی پہ اور دوسرے نے

    کہیں غار میں اس کو دیکھا

    کبھی وہ ہمارے دلوں میں تھا

    پھر لوگ کہتے ہیں ذہنوں میں آیا

    ہر اک سوچ میں دھند بن کر سمایا

    مگر اب کہاں ہے

    چلو نیل دجلہ

    چلو اونچے اونچے پہاڑوں

    چلو بادلوں پانیوں میں جھکیں

    اس کو ڈھونڈیں

    ابھی عمر قائم ہے اور اپنے چہروں

    کے پردے اٹھانے کا یارا بھی ہے

    بعد میں کون جانے کسے اتنی فرصت ہو

    اور نیند سے کون جاگے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے