ساتھی
تم بھی چلے تھے سوئے در ہم بھی چلے تھے سوئے در
تم بھی اٹھے بہ چشم نم ہم بھی بڑھے بہ اشک تر
تم بھی وفا شناس تھے ہم بھی وفا شعار تھے
ہم بھی گئے تھے سر بکف تم بھی جگر فگار تھے
تم بھی تھے آبروئے گل ہم بھی تھے غیرت سمن
تم بھی دریدہ جیب تھے ہم بھی تھے چاک پیرہن
یاد تو ہوگا تم کو بھی کتنی لگن کا ساتھ تھا
چاہتیں بھی تھیں قرب بھی ہاتھ میں اپنے ہاتھ تھا
جب بھی چلے ہیں، ساتھ ہم گام بہ گام تھے بہم
معرکۂ دل و نظر اپنے ہی خوں سے ہے رقم
شوق وہی تپش وہی درد وہی خلش وہی
منزل آرزو وہی راہ وہی روش وہی
پھر بھی کھنچے کھنچے سے ہو پھر بھی رکے رکے سے ہو
ایک ہے قصۂ جنوں پھر بھی لیے دیئے سے ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.