خوشبو کا سفر
چھوڑ پیمان وفا کی بات شرمندہ نہ کر
دوریاں مجبوریاں رسوائیاں تنہائیاں
کوئی قاتل کوئی بسمل سسکیاں شہنائیاں
دیکھ یہ ہنستا ہوا موسم ہے موضوع نظر
وقت کی رو میں ابھی ساحل ابھی موج فنا
ایک جھونکا ایک آندھی اک کرن اک جوئے خوں
پھر وہی صحرا کا سناٹا وہی مرگ جنوں
ہاتھ ہاتھوں کا اثاثہ ہاتھ ہاتھوں سے جدا
جب کبھی آئے گا ہم پر بھی جدائی کا سماں
ٹوٹ جائے گا مرے دل میں کسی خواہش کا تیر
پھیل جائے گی تری آنکھوں میں کاجل کی لکیر
اور پیمان وفا جیسے اندھیروں میں دھواں
کل کے اندیشوں سے اپنے دل کو آزردہ نہ کر
دیکھ یہ ہنستا ہوا موسم یہ خوشبو کا سفر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.