تری وفا نے مجھے کر لیا قبول مگر
مرے جنوں سے محبت کا حق ادا نہ ہوا
ترے غموں نے مرے ہر نشاط کو سمجھا
مرا نشاط ترے غم سے آشنا نہ ہوا
کہاں کہاں نہ مرے پاؤں لڑکھڑائے مگر
ترا ثبات عجب تھا کہ حادثہ نہ ہوا
ہزار دشنہ و خنجر تھے میری باتوں میں
تری زباں پہ کبھی حرف ناروا نہ ہوا
بہت گھٹی تری رحمت تو بے پناہ بنی
بہت ہوا مرا مسلک تو منصفانہ ہوا
ترے دکھوں نے پکارا تو میں قریب نہ تھا
مرے غموں نے صدا دی تو فاصلہ نہ ہوا
ہزار تیرگیاں مضطرب رہیں لیکن
چراغ اپنے اجالوں سے بے وفا نہ ہوا
ترے مجاز میں اس کے لیے پرستش تھی
خدا کا نام لیے جس کو اک زمانہ ہوا
مری سیاہیٔ دامن کو دیکھنے پر بھی
ترے سفید دوپٹوں کا دل بڑا نہ ہوا
خذف کی جیب میں کیا تھا سوائے کم یابی
بس ایک گوہر نایاب سے خزانہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.