باتیں
کچھ دن پھول مہکتے ہیں
کچھ دن خوشبو رہتی ہے
کچھ دن ابر برستا ہے
کچھ دن ندی بہتی ہے
وہ دن یاد نہیں رہتے
دل پر جب اک چوٹ پڑی
پربت پتھر راکھ ہوئے
پنچھی کلیاں خوشبوئیں
سارے منظر راکھ ہوئے
راتیں آگ میں ڈھلتی ہیں
دن بھی سلگتے رہتے ہیں
آنسو دل کے صحرا میں
چپ چپ رینگتے رہتے ہیں
کچھ دن یوں بھی بیت گئے
کتنے پھول مہکتے ہیں
یادوں کے ویرانے میں
کیسے کیسے موڑ ملے
چھوٹے سے افسانے میں
کتنی صدیاں ڈوب گئیں
وقت کے اک پیمانے میں
جو دن یاد نہیں رہتے
وہ بھی یاد سے رہتے ہیں
جیسے ناٹک میں کچھ لوگ
رنگ بدلتے رہتے ہیں
دکھ اور سکھ کے سورج چاند
آتے جاتے رہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.