بھونچال
کرۂ ارض کی مانند ہے انساں کا وجود
سطح پر پھول ہیں سبزہ ہے خنک چھاؤں ہے
برف ہے چاندنی ہے رات ہے خاموشی ہے
اور بادل جو فضاؤں میں رواں ہیں چپ چاپ
دور سے موتیے کے ڈھیر نظر آتے ہیں
اور باطن میں گرجتا ہے وہ لاوا جس سے
زلزلے آتے ہیں، کہسار چٹخ جاتے ہیں
کس کو فرصت ہے کہ اک پل کو ٹھٹک کر سوچے
لب دریا جو یہ معصوم سا اک گاؤں ہے
اس کے نیچے وہ جہنم ہے کہ جب جاگے گا
آدمی اپنے ہی پیکر سے نکل بھاگے گا
کرۂ ارض کی مانند ہے انساں کا وجود
کس کو معلوم کہ رعنائی تن کے اس پار
کون جانے کہ دمکتے ہوئے عارض سے ادھر
نکہت گیسو و شیرینیٔ لب کے پیچھے
حسن تہذیب و تمدن سے ذرا سا ہٹ کر
ذہن کی آتش سیال میں پڑتے ہیں بھنور
اس کے رستے میں کوئی فلسفہ حائل ہو اگر
قدریں تھراتی ہیں معیار الٹ جاتے ہیں
اور اس زلزلۂ فکر و نظر سے ہر بار
کتنے دیوانے روایت سے دغا کرتے ہیں
کتنے بت ٹوٹتے ہیں کتنے ''خدا'' مرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.