لڑکیو آؤ آؤ مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ
لڑکیو آؤ آؤ مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ
کہ میری رگوں میں لہو کی دھنک بجھ رہی ہے
میں عمروں سے نامرد لفظوں کے پہلو میں لیٹا ہوں
اور میری آنکھوں کا نم مر چکا ہے
شکستہ منڈیروں پہ میں نے سنا ہے
تمہاری چمکدار آنکھوں کی لو سے چراغاں ہوا ہے
سنا ہے کہ محکوم شہروں میں آنچل کا پرچم کھلا ہے
جہاں پر لہو کی عبارت سے تم نے نیا دن لکھا ہے
مگر میری آنکھوں کا نم مر چکا ہے
مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ
لڑکیو آؤ آؤ
انہوں نے مرے بھائیوں کے لیے عمر کی قید رکھی ہے
بہنوں کو مرمر کی قبروں میں
ماؤں کو بارود کی سنسناتی سرنگوں میں
بچوں کو تازہ ہوا بند ڈبوں میں محفوظ کر کے
جہازوں میں بھیجا ہے
آؤ مرے جسم کی سرحدوں پر
لہو کی عبارت میں سورج کی تعبیر لکھو
رگوں کی اندھیری سیہ سونی گلیوں میں
آنچل کا در کھول دو آؤ آؤ
مری زنگ آلود آنکھوں میں پہلی کرن بن کے آؤ
مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ
کہ میری رگوں میں لہو کی دھنک بجھ رہی ہے
میں عمروں سے نامرد لفظوں کے پہلو میں لیٹا ہوں
اور میری آنکھوں کا نم مر چکا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.