Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لڑکیو آؤ آؤ مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ

سرمد صہبائی

لڑکیو آؤ آؤ مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ

سرمد صہبائی

MORE BYسرمد صہبائی

    لڑکیو آؤ آؤ مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ

    کہ میری رگوں میں لہو کی دھنک بجھ رہی ہے

    میں عمروں سے نامرد لفظوں کے پہلو میں لیٹا ہوں

    اور میری آنکھوں کا نم مر چکا ہے

    شکستہ منڈیروں پہ میں نے سنا ہے

    تمہاری چمکدار آنکھوں کی لو سے چراغاں ہوا ہے

    سنا ہے کہ محکوم شہروں میں آنچل کا پرچم کھلا ہے

    جہاں پر لہو کی عبارت سے تم نے نیا دن لکھا ہے

    مگر میری آنکھوں کا نم مر چکا ہے

    مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ

    لڑکیو آؤ آؤ

    انہوں نے مرے بھائیوں کے لیے عمر کی قید رکھی ہے

    بہنوں کو مرمر کی قبروں میں

    ماؤں کو بارود کی سنسناتی سرنگوں میں

    بچوں کو تازہ ہوا بند ڈبوں میں محفوظ کر کے

    جہازوں میں بھیجا ہے

    آؤ مرے جسم کی سرحدوں پر

    لہو کی عبارت میں سورج کی تعبیر لکھو

    رگوں کی اندھیری سیہ سونی گلیوں میں

    آنچل کا در کھول دو آؤ آؤ

    مری زنگ آلود آنکھوں میں پہلی کرن بن کے آؤ

    مرے واسطے چوڑیاں لے کے آؤ

    کہ میری رگوں میں لہو کی دھنک بجھ رہی ہے

    میں عمروں سے نامرد لفظوں کے پہلو میں لیٹا ہوں

    اور میری آنکھوں کا نم مر چکا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے