Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عورت

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج

حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج

آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج

حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج

جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار

تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار

تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار

تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار

کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

تو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہے

تپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہے

پاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہے

بن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہے

زیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

زندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیں

نبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیں

اڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیں

جنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیں

اس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

گوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیے

فرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیے

قہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیے

زہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیے

رت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں

تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں

تو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیں

تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں

اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

توڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکل

ضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکل

نفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکل

قید بن جائے محبت تو محبت سے نکل

راہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

توڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑ

تیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑ

طوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑ

توڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑ

بن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں

تیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیں

ہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیں

میں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیں

لڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

ویڈیو
This video is playing from YouTube

Videos
This video is playing from YouTube

کیفی اعظمی

کیفی اعظمی

کیفی اعظمی

کیفی اعظمی

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

00:00/00:00
نعمان شوق

عورت نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے