آئیڈینٹیٹی کرائسس
آسمان و زمیں
مختلف سمت کی گردشوں کے سبب
زندگانی کی چکی کے دو پاٹ ہیں
ان کے مابین پستہ ہوا آدمی
آدمی آسماں کے مطابق فلک زاد تھا
اس کا منصب زمینی خرافات سے
ماورا تھا مگر
اس نے خود کو خبائث کا مجرم کیا
اس کا خاکی بدن روح پر فوقیت لے گیا
اس بنا پر وہ میرے غضب کا سزاوار ہے
اور زمیں تو بضد ہے اسی بات پر
آدمی مجھ میں آباد ہے
میرا ہم راز ہے میرا دم ساز ہے
آدمی کچھ نہیں ہے فقط خاک ہے
جب کبھی خاک سے اپنی بنیاد سے
آدمی نے بغاوت کا سوچا اگر
آسماں کی طرف جو اٹھائی نظر
تو مرے قہر نے
قوت دہر نے
اس کی سوچوں کی باگیں فقط ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیں
آدمی آسمان و زمیں کی کشاکش میں پستے ہوئے سوچتا ہے
کہ میں کون ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.