دروازے کے پیچھے
کل کی بات ہے
میں نے بھی اس دروازے پر دستک دے دی
پہلے تو اک فاقوں مارا کتا بھونکا
پھر کتے کو ڈانٹ پڑی
خاموش رہو
اور دروازے کے بند کواڑوں کے پیچھے اک آنچل مہکا
خوشبوؤں کی جھیل میں جیسے کسی نے کنکر پھینک دیا ہو
ہمت کر کے میں کھنکارا جیسے مجھ سے کہا گیا تھا
کھل گئی کنڈی دروازے کی جیسے میں نے سن رکھا تھا
بھڑکیلے رنگوں میں لپٹی ایک حسینہ
پیار سے مجھ کو دیکھ رہی تھی
اس کے آنچل کی خوشبو
اور اس کے چہرے کا غازہ
اور اس کے ہونٹوں کی سرخی
اور اس کی باہوں کے گجرے
اور اس کے جسم کی ہر زیبائش پیار سے مجھ کو دیکھ رہی تھی
میں نے چہرے کے پیچھے جو بھوک چھپا رکھی تھی اس کو چھپ چھپ کر وہ دیکھ رہی تھی
اتنے میں پھر فاقوں مارا کتا بھونکا
پھر کتے کو ڈانٹ پڑی
خاموش رہو
اب کچھ ہی دیر میں اپنے بھاگ بھی جاگ اٹھیں گے
اب کچھ دیر میں تیری بھوک بھی مٹ جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.