Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تب اور اب

MORE BYعبدالرحمان واصف

    ہائے کیا دن تھے وہ

    جب نظر میں محبت کا احساس تھا

    ایک اک لفظ احساس کا داس تھا

    اپنا ہر ایک لمحہ بہت خاص تھا

    سب خوشی کے پرند

    اپنے آنگن کے پنجرے میں تھے

    چاند خوشبو صبا رنگ نم تتلیاں

    قہقہے چشم و دل کے جھروکے میں تھے

    ہم کسی کی نگاہوں کے حلقے میں تھے

    ساری دنیا کے سکھ اپنے لہجے میں تھے

    ہم تو نشے میں تھے

    چاند تاروں سے گپ شپ کا معمول تھا

    سنگ ریزہ بھی اپنے لیے پھول تھا

    یہ بلا کا سفر بھی فقط دھول تھا

    اب یہ حالات ہیں

    ہم امنگوں کی اجڑی ہوئی رات ہیں

    سبز پیڑوں سے بچھڑے ہوئے پات ہیں

    حرف ہیہات ہیں

    یہ ترے ہجر ہی کے کرامات ہیں

    اب کوئی روشنی

    کم نظر کی نگاہوں کو بھاتی نہیں

    کوئی سپنوں کی لو

    آنکھ کی پتلیوں میں اجالا جگاتی نہیں

    اب سماعت کو کوئی مدھرتا لبھاتی نہیں

    کوئی ہمدم نہیں کوئی ساتھی نہیں

    نیند آتی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے