اونچ نیچ
تو کہتا ہے روؤں نہیں
اچھا میں اب نہیں روؤں گی
اب کاجل مہندی اور گجروں کے خوابوں میں
میں اپنا آپ نہ کھوؤں گی
تو کہتا تھا میرے لیے تو چاندی کے بالے لائے گا
چاندی کے بالوں کا چاؤ میرا پرانا چاؤ ہے
لیکن مجھ کو ان خالی کانوں کی قسم
میں اب تم سے کچھ بھی نہ بولوں گی
یونہی رہوں گی
روکھی سوکھی جو بھی ملے گی
کھاؤں گی اور شکر کروں گی
آج مگر اس گہری کالی رات کی نوحہ پڑھتی تاریکی میں
وہ جو سامنے اونچا گھر ہے
اس میں کیسی روشنیوں کا جشن بپا ہے؟
تیرے میرے گھر کا دیا کیوں بجھا پڑا ہے؟
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.