Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اونچ نیچ

رینا زیدی

اونچ نیچ

رینا زیدی

MORE BYرینا زیدی

    تو کہتا ہے روؤں نہیں

    اچھا میں اب نہیں روؤں گی

    اب کاجل مہندی اور گجروں کے خوابوں میں

    میں اپنا آپ نہ کھوؤں گی

    تو کہتا تھا میرے لیے تو چاندی کے بالے لائے گا

    چاندی کے بالوں کا چاؤ میرا پرانا چاؤ ہے

    لیکن مجھ کو ان خالی کانوں کی قسم

    میں اب تم سے کچھ بھی نہ بولوں گی

    یونہی رہوں گی

    روکھی سوکھی جو بھی ملے گی

    کھاؤں گی اور شکر کروں گی

    آج مگر اس گہری کالی رات کی نوحہ پڑھتی تاریکی میں

    وہ جو سامنے اونچا گھر ہے

    اس میں کیسی روشنیوں کا جشن بپا ہے؟

    تیرے میرے گھر کا دیا کیوں بجھا پڑا ہے؟

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے