نیا پہلو
کپکپاتے ہاتھ پہلی بار شعلوں کی طرف لپکے تپش محسوس کی
آگ ٹھنڈی پڑ گئی تو انگلیاں جلنے لگیں دل نے خلش محسوس کی
دھڑکنوں کا شور اتنے زور کا تھا سوچ کی راہوں میں حائل ہو گیا
راہرو سمجھے تھکا ہارا مسافر تھا ملا سایہ تو پڑ کر سو گیا
سارے رستے آزمائے جو پلٹ کر پھر نہ آئے ایسی رہ کوئی نہ تھی
باہیں پھیلائے ہوئے ان فاصلوں کو جو مٹائے ایسی رہ کوئی نہ تھی
آرزو نے حسرتوں کے جس قدر موتی چنے تھے آنسوؤں میں بہہ گئے
جاگتی آنکھوں کے سپنے وقت کی رفتار کے محتاج ہو کر رہ گئے
خود پسندی خود فراموشی بنی تھی اپنا یہ پہلو ابھی دیکھا نہ تھا
حادثے دیکھے سنے پر دل کو یوں روتے ہوئے پہلے کبھی دیکھا نہ تھا
پوچھنے والوں نے پوچھا کیا ہوا
اب تو اپنے پاس کہنے کو رہا کچھ بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.