Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نیا پہلو

منو بھائی

نیا پہلو

منو بھائی

MORE BYمنو بھائی

    کپکپاتے ہاتھ پہلی بار شعلوں کی طرف لپکے تپش محسوس کی

    آگ ٹھنڈی پڑ گئی تو انگلیاں جلنے لگیں دل نے خلش محسوس کی

    دھڑکنوں کا شور اتنے زور کا تھا سوچ کی راہوں میں حائل ہو گیا

    راہرو سمجھے تھکا ہارا مسافر تھا ملا سایہ تو پڑ کر سو گیا

    سارے رستے آزمائے جو پلٹ کر پھر نہ آئے ایسی رہ کوئی نہ تھی

    باہیں پھیلائے ہوئے ان فاصلوں کو جو مٹائے ایسی رہ کوئی نہ تھی

    آرزو نے حسرتوں کے جس قدر موتی چنے تھے آنسوؤں میں بہہ گئے

    جاگتی آنکھوں کے سپنے وقت کی رفتار کے محتاج ہو کر رہ گئے

    خود پسندی خود فراموشی بنی تھی اپنا یہ پہلو ابھی دیکھا نہ تھا

    حادثے دیکھے سنے پر دل کو یوں روتے ہوئے پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

    پوچھنے والوں نے پوچھا کیا ہوا

    اب تو اپنے پاس کہنے کو رہا کچھ بھی نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے