حضرت فراقؔ
کیوں گلشن ادب کا ہر اک پھول ہے اداس
کیا کوئی داغ دے گیا اور لے گیا ہے باس
چھایا ہوا چمن پہ ہے کیوں ابر حزن و غم
کیسا یہ سانحہ ہے کہ کھو بیٹھے سب حواس
تھا دور نو کا میرؔ خود اپنا جواب تھا
دنیائے علم و فکر کا وہ آفتاب تھا
ہر انجمن میں بن کے رہا مرکز نگاہ
یعنی فراقؔ اہل سخن کی کتاب تھا
شعر و ادب کی شان تھا اردو کی جان تھا
رگھوپت سہائے نام کا انساں مہان تھا
سب قدرداں تھے اس کے ہو یورپ کہ ایشیا
شیدا نہ اس کا صرف یہ ہندوستان تھا
تکتے ہیں راہ لوگ یہ کس اشتیاق میں
ارباب فکر روتے ہیں کس کے فراق میں
اس کا یہ درس یاد بہت آ رہا ہے آج
راحت بھی ہے فلاح بھی ہے اتفاق میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.