مہر نو
نگار صبح کے بیمار دونوں
شب آخر بھی روز مہر نو بھی
ستارے یوں بھی جل بجھنے کے قائل
شب آخر میں چشم نیم وا ہیں
شب آخر سیاہی سے گریزاں
ستارے بھی سیاہی سے خفا ہیں
نگار صبح سے وارفتگی سی
بڑھی تو رات نے سب کچھ لٹایا
ستارے بیچ ڈالے نور بیچا
شب آفات نے سب کچھ لٹایا
نگار صبح کی چاہت نویلی
شب آخر سے مل کر بھی جدا ہے
سحر کے زیر بالیں مہر نو ہے
طلوع مہر سے محشر بپا ہے
شب آخر رقیب روشنی ہے
شب آخر سے دن کی دشمنی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.