ادھورے سفر میں سکھ کا سانس
اور ہم سوچتے تھے
چاند اور پیڑ میں دو ہاتھ کا ہی فاصلہ ہے
چاند اور پیڑ بھی خواب گہ وقت میں ہیں
تم نے اب تک مرے ہاتھوں پہ قسم کھائی نہیں
فاصلہ اور بڑھے گا تو اجالے کا افق
پیڑ کی شاخ سے کٹ جائے گا
اور کہنے کو تو باتیں ہیں ہزاروں باتیں
بات سے بات نکلتی ہی چلی جاتی ہے
بات جس کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا ہے
چاند اور پیڑ کی پرکار کبھی رکتی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.