رابطہ
کال کی سہولت بھی
پہلے کب میسر تھی
جب خطوط بھی اکثر دیر سے پہنچتے تھے
ماں کو کس طرح آخر
یہ خیال آتا تھا
اس کی آنکھ کا تارا ہے کسی مصیبت میں
اک کلرک کی بیوی
دور گاؤں میں بیٹھی کیسے سوچ لیتی تھی
کچھ نہ کچھ خرابی ہے
پیار کرنے والوں کا
ایک دوسرے کے ساتھ
رابطہ تو ہوگا کچھ
رابطہ نہ ہوتا تو ایک ساتھ لوگوں کے
دل کہاں دھڑکنے تھے
دل کہاں دھڑکنے تھے ایک ساتھ لوگوں کے
جب نہیں تھے موبائل
رابطہ دلوں کا تھا
جب خطوط بھی اکثر دیر سے پہنچتے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.