Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رابطہ

MORE BYبنیامین مضطرب

    کال کی سہولت بھی

    پہلے کب میسر تھی

    جب خطوط بھی اکثر دیر سے پہنچتے تھے

    ماں کو کس طرح آخر

    یہ خیال آتا تھا

    اس کی آنکھ کا تارا ہے کسی مصیبت میں

    اک کلرک کی بیوی

    دور گاؤں میں بیٹھی کیسے سوچ لیتی تھی

    کچھ نہ کچھ خرابی ہے

    پیار کرنے والوں کا

    ایک دوسرے کے ساتھ

    رابطہ تو ہوگا کچھ

    رابطہ نہ ہوتا تو ایک ساتھ لوگوں کے

    دل کہاں دھڑکنے تھے

    دل کہاں دھڑکنے تھے ایک ساتھ لوگوں کے

    جب نہیں تھے موبائل

    رابطہ دلوں کا تھا

    جب خطوط بھی اکثر دیر سے پہنچتے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے