Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جذب و گریز

شاذ تمکنت

جذب و گریز

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    روبرو ہو کے بھی نظریں نہ ملائیں اس نے

    اپنی روئی ہوئی آنکھوں کو چھپانا چاہا

    ہائے وہ کیفیت عجز بہ ہنگام سلام

    اس سرافراز نے جب سر کو جھکانا چاہا

    سیپ سی انگلیاں تھرائیں جبیں سرد ہوئی

    جیسے سر تا بہ قدم مجھ میں سمانا چاہا

    زیر دامان حیا شمع جلانی چاہی

    ناز فرماتے ہوئے ناز اٹھانا چاہا

    سخن لطف کو سرگوشی کا درجہ دے کر

    تا بہ امکاں مجھے نزدیک بلانا چاہا

    لیلیٰٔ نجد دکن جان وطن روح سخن

    غم کو محمل نہ سمجھ عشق کو پردا نہ بنا

    مہر کو چور نہ کر ماہ کو بے نور نہ کر

    نیند کو زخم نہ دے خواب کو دھڑکا نہ بنا

    لحن کو سوز نہ دے ساز پہ مضراب نہ رکھ

    سانس کو آہ نہ کر فکر کو نغمہ نہ بنا

    روپ کو دھوپ نہ دے رنگ کو شعلہ نہ دکھا

    در کو دیوار نہ کر سنگ کو شیشہ نہ بنا

    تو کہ خلوت میں رہے انجمن آرا بن کر

    مجھ کو بزار ہی رہنے دے تماشا نہ بنا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے