جذب و گریز
روبرو ہو کے بھی نظریں نہ ملائیں اس نے
اپنی روئی ہوئی آنکھوں کو چھپانا چاہا
ہائے وہ کیفیت عجز بہ ہنگام سلام
اس سرافراز نے جب سر کو جھکانا چاہا
سیپ سی انگلیاں تھرائیں جبیں سرد ہوئی
جیسے سر تا بہ قدم مجھ میں سمانا چاہا
زیر دامان حیا شمع جلانی چاہی
ناز فرماتے ہوئے ناز اٹھانا چاہا
سخن لطف کو سرگوشی کا درجہ دے کر
تا بہ امکاں مجھے نزدیک بلانا چاہا
لیلیٰٔ نجد دکن جان وطن روح سخن
غم کو محمل نہ سمجھ عشق کو پردا نہ بنا
مہر کو چور نہ کر ماہ کو بے نور نہ کر
نیند کو زخم نہ دے خواب کو دھڑکا نہ بنا
لحن کو سوز نہ دے ساز پہ مضراب نہ رکھ
سانس کو آہ نہ کر فکر کو نغمہ نہ بنا
روپ کو دھوپ نہ دے رنگ کو شعلہ نہ دکھا
در کو دیوار نہ کر سنگ کو شیشہ نہ بنا
تو کہ خلوت میں رہے انجمن آرا بن کر
مجھ کو بزار ہی رہنے دے تماشا نہ بنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.