Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اوتار

جمیل ملک

اوتار

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    پجارن نے اک بت بنایا

    اسے من کے مندر میں لا کر سجایا

    اسے اپنا ایک ایک دکھڑا سنایا

    پجارن نے آشاؤں کے کتنے خاکے بنائے مٹائے

    سلگتی ہوئی شام سے پھوٹتی صبح تک کتنے دیپک جلائے بجھائے

    پجارن نے پوجا کی جتنی بھی رسمیں تھیں ساری ادا کیں

    پجارن کے سینے میں جتنی تمنائیں تھیں آرتی میں سجا دیں

    کہ شاید بت سنگ اس کا خدا مسکرا دے

    اسے زیر لب یوں صدا دے

    نہ رو میرے پہلو میں آ مجھ میں تحلیل ہو جا

    کہ میں تیری تخلیق ہوں تیرا شہکار ہوں

    تو مری روح ہے اور میں تیرا اوتار ہوں

    مگر کوئی نغمہ نہ پھوٹا

    کہ وہ دیوتا تودۂ سنگ تھا اس کے سینے میں پتھر کا دل تھا

    پجارن نے اپنے ہی شہکار کا سر قلم کر دیا

    ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا

    صدا آ رہی تھی

    نہ رو میرے پہلو میں آ مجھ میں تحلیل ہو جا

    کہ میں تیری تخلیق ہوں تیرا شہکار ہوں

    تو مری روح ہے اور میں تیرا اوتار ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے