Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پتھر کے انسان

عین سلام

پتھر کے انسان

عین سلام

MORE BYعین سلام

    پہاڑوں کے سنگین اسرار

    گہرے گھنے جنگلوں کے پرت دار پھیلے ہوئے سلسلے ہیں

    کہیں ان میں تم کھو نہ جانا

    بلندی کی جانب

    نگاہوں کی حد سے نکلتی ہوئی ڈوبی پگڈنڈیو

    اونچی گہرائیوں میں سمٹتی ہوئی پھیلی چپ گھاٹیو!

    پیڑ کی جڑ کی مانند

    دھرتی کی تاریک پہنائیوں میں صلابت کی تابندگی کا وہ گمبھیر جوہر

    جو مضبوط پھیلا ہوا گہرا اور سر بر آوردہ ہے

    ہم پہاڑوں کے کمزور اور نا خلف بیٹوں کا ایک سرمایۂ بردہ ہے

    اپنی بے رنگ فطرت کی بے کیف آوارگی کی سکت

    ان پہاڑوں کی جلتی سلگتی ہوئی اوس کی نرم یخ بستہ چنگاریاں

    ان زمینوں کی تیرہ تہوں کی نمی سے بھری خشکیوں کی خنک گرمیاں

    جن سے اس زندگی میں توانائی کے حسن کی روشنی ہے

    زمانہ ہوا کھو چکی ہے

    زمانہ ہوا ہم پریشان حیران

    سر پر تنے خشک نامہربان آسماں کے تلے

    اونچے اونچے پہاڑوں کے بے آب پھیلے ہوئے دامنوں میں کھڑے

    جاہلوں کی طرح

    اپنی تقدیر کے نوحہ خواں

    ہم وہ پتھر کے ذی روح بت ہیں

    زمانہ جنہیں عبرتوں کے لیے خود میں محفوظ رکھتا ہے

    ہم نے تو اپنے لیے کر لیا ہے حرام

    اولیں روز سے

    خود کو پانا

    پہاڑوں کے سنگین اسرار

    گہرے گھنے جنگلوں کے پرت دار پھیلے ہوئے سلسلے ہیں

    کہیں ان میں تم کھو نہ جانا

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے