پتھر کے انسان
پہاڑوں کے سنگین اسرار
گہرے گھنے جنگلوں کے پرت دار پھیلے ہوئے سلسلے ہیں
کہیں ان میں تم کھو نہ جانا
بلندی کی جانب
نگاہوں کی حد سے نکلتی ہوئی ڈوبی پگڈنڈیو
اونچی گہرائیوں میں سمٹتی ہوئی پھیلی چپ گھاٹیو!
پیڑ کی جڑ کی مانند
دھرتی کی تاریک پہنائیوں میں صلابت کی تابندگی کا وہ گمبھیر جوہر
جو مضبوط پھیلا ہوا گہرا اور سر بر آوردہ ہے
ہم پہاڑوں کے کمزور اور نا خلف بیٹوں کا ایک سرمایۂ بردہ ہے
اپنی بے رنگ فطرت کی بے کیف آوارگی کی سکت
ان پہاڑوں کی جلتی سلگتی ہوئی اوس کی نرم یخ بستہ چنگاریاں
ان زمینوں کی تیرہ تہوں کی نمی سے بھری خشکیوں کی خنک گرمیاں
جن سے اس زندگی میں توانائی کے حسن کی روشنی ہے
زمانہ ہوا کھو چکی ہے
زمانہ ہوا ہم پریشان حیران
سر پر تنے خشک نامہربان آسماں کے تلے
اونچے اونچے پہاڑوں کے بے آب پھیلے ہوئے دامنوں میں کھڑے
جاہلوں کی طرح
اپنی تقدیر کے نوحہ خواں
ہم وہ پتھر کے ذی روح بت ہیں
زمانہ جنہیں عبرتوں کے لیے خود میں محفوظ رکھتا ہے
ہم نے تو اپنے لیے کر لیا ہے حرام
اولیں روز سے
خود کو پانا
پہاڑوں کے سنگین اسرار
گہرے گھنے جنگلوں کے پرت دار پھیلے ہوئے سلسلے ہیں
کہیں ان میں تم کھو نہ جانا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.