بلندی
بگولے کی مانند
اور پیچ در پیچ
رقصاں، پر افشاں
بلندی کی جانب
بلندی جو حد نظر ہے
بلندی جو نا معتبر ہے
مقدر یہ دھرتی
یہ دھرتی کہ جس کی کشش کھینچ لائے گی
رقصاں پر افشاں بگولے کی مانند اور پیچ در پیچ
اونچی بہت اونچی اڑتی ہوئی ہر طلب کو
کہ دھرتی سے جو بھی اڑا ہے
پلٹ کر اسی پر گرا ہے
یہ دھرتی ہی اپنا مقدر ہے
دھرتی ہی آغاز ہے اور دھرتی ہی اپنی خبر ہے
بلندی جو حد نظر ہے
بلندی جو نا معتبر ہے
فریب نظر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.