اے خدائے ازل
اے خدائے ازل
خاک زیور کیے
تیرے مجذوب نے
آج آتش کدے کے بیالس پھیرے مکمل کیے
آج سینے میں جیسے یہ دھڑکن نہیں
اک تلاطم بپا ہے
خموشی کے ملبے تلے دب چکے وہ سوالات اب
بوجھ سہنے کی ہمت نہ پا کر
بغاوت پہ مجبور ہیں
اور اس کشمکش میں تڑپتا ہوا یہ بدن
جو زمانے سے پردے کی خاطر
فقط انتظار ابد پر ہی مامور ہے
کردگار زمین و زماں
اے ازل آشنا
محفل آب و گل ہے سجی
رونق ہست میں عشق بھی ہے پئے بندگی
تو اگر ساز بودش پہ سر چھیڑ دے
نغمۂ مرگ و محشر کا آغاز ہو
کوئی صورت تکلم کی ایجاد ہو
کردگار سخن ہائے جاں
اے ازل آشنا
ساز ایجاد پر
رمز کی تھاپ پر
روح کو رقص کرنے کا ارمان ہے
رنگ میں رنگ پڑنے کا امکان ہے
اپنے گیتوں میں منظوم کر دے مجھے
اپنے نغموں سے معدوم کر دے مجھے
میں عدم کے دریچے پہ آ جاؤں گا
میں کہ بس تیری قربت کے گن گاؤں گا
ساز و آواز کے سات پردوں میں گم
راز دارئ کل ایک میں ایک تم
کردگار یقین و گماں
اے ازل آشنا
زمزمہ ہائے تخلیق سے ماسوا
ایک قصہ بھی ہے
ان کہا ان سنا
وقت کی ابتدا
یہ معمہ ہے کیا
ماورائے ازل
تو کہ موجود تھا
پھر ازل کیا ہوا
قبل از ابتدا
تیری موجودگی
کس زمانی حقیقت سے منسوب ہے
میرا دل آج منطق سے مغلوب ہے
دور ہو جائے اب التباس خرد
راس آ جائے پھر اہتمام جنوں
کردگار رموز جہاں
اے ازل آشنا
اے خدائے ازل
اے خدائے ابد
اے خدائے اجل
اے اجل آشنا
کن کے سر گنگنا
کن کے سر گنگنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.