Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اے خدائے ازل

سلمان ثروت

اے خدائے ازل

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    اے خدائے ازل

    خاک زیور کیے

    تیرے مجذوب نے

    آج آتش کدے کے بیالس پھیرے مکمل کیے

    آج سینے میں جیسے یہ دھڑکن نہیں

    اک تلاطم بپا ہے

    خموشی کے ملبے تلے دب چکے وہ سوالات اب

    بوجھ سہنے کی ہمت نہ پا کر

    بغاوت پہ مجبور ہیں

    اور اس کشمکش میں تڑپتا ہوا یہ بدن

    جو زمانے سے پردے کی خاطر

    فقط انتظار ابد پر ہی مامور ہے

    کردگار زمین و زماں

    اے ازل آشنا

    محفل آب و گل ہے سجی

    رونق ہست میں عشق بھی ہے پئے بندگی

    تو اگر ساز بودش پہ سر چھیڑ دے

    نغمۂ مرگ و محشر کا آغاز ہو

    کوئی صورت تکلم کی ایجاد ہو

    کردگار سخن ہائے جاں

    اے ازل آشنا

    ساز ایجاد پر

    رمز کی تھاپ پر

    روح کو رقص کرنے کا ارمان ہے

    رنگ میں رنگ پڑنے کا امکان ہے

    اپنے گیتوں میں منظوم کر دے مجھے

    اپنے نغموں سے معدوم کر دے مجھے

    میں عدم کے دریچے پہ آ جاؤں گا

    میں کہ بس تیری قربت کے گن گاؤں گا

    ساز و آواز کے سات پردوں میں گم

    راز دارئ کل ایک میں ایک تم

    کردگار یقین و گماں

    اے ازل آشنا

    زمزمہ ہائے تخلیق سے ماسوا

    ایک قصہ بھی ہے

    ان کہا ان سنا

    وقت کی ابتدا

    یہ معمہ ہے کیا

    ماورائے ازل

    تو کہ موجود تھا

    پھر ازل کیا ہوا

    قبل از ابتدا

    تیری موجودگی

    کس زمانی حقیقت سے منسوب ہے

    میرا دل آج منطق سے مغلوب ہے

    دور ہو جائے اب التباس خرد

    راس آ جائے پھر اہتمام جنوں

    کردگار رموز جہاں

    اے ازل آشنا

    اے خدائے ازل

    اے خدائے ابد

    اے خدائے اجل

    اے اجل آشنا

    کن کے سر گنگنا

    کن کے سر گنگنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے