للک
اداس پیڑوں کی زرد شاخیں پکارتی ہیں
کوئی تو آئے جو رنگ و بو کی بہار لائے
اجاڑ چہروں پہ سبزگی کا یقین رکھے
الم خرامی پہ زندگانی کا رنگ اوڑھے
بریدگی اور فسردگی کو تمام کر دے
یہ تاب صبح خزاں جو آنکھوں کو چبھ رہی ہے
حواس گاہوں میں کھب رہی ہے
اس ایک تاب خزاں رسیدہ کو شام کر دے
فسردگی اور زردگی کو حرام کر دے
کوئی اداسی کے کوچ کا انتظام کر دے
اداس پیڑوں کی زرد شاخیں پکارتی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.