واردات
سامنے کھل کے آئیے چھو کے گزر نہ جائیے
بات وہی جو ہو گئی فصل وہی جو پک گئی
چاند بدن چرائیے ریت مگر نبھائیے
تختۂ شب پہ ہر کلی پھول بنی چٹک گئی
عکس میں عکس گھل گئے آنکھ کرن بھٹک گئی
پیار پہ روپ کی بھڑک روپ پہ رنگ آ گیا
جسم بکھر بکھر گیا روح مہک مہک گئی
ہاتھ میں ہاتھ آ گیا ہجر پہ قرب چھا گیا
انگ میں انگ لب میں لب لاکھ دیئے جلا گیا
تان دکھوں کے راگ کی آہ سے آہ تک نہ تھی
لفظ کھلا تو زلف تھا حرف حیات پا گیا
شوک غموں کے ناگ کی فرش گیاہ تک نہ تھی
بات کچھ اور تھی مگر بات کچھ اور ہو گئی
رات بس ایک رات میں پھیل کے دور ہو گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.