Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میرا جی

تابش صدیقی

میرا جی

تابش صدیقی

MORE BYتابش صدیقی

    اس کی آنکھیں اس کی زلفیں

    آج بھی مجھ کو یاد ہیں جیسے

    میں نے ان کو کل دیکھا ہے

    آنکھوں کا معصوم تجسس

    آج بھی ان کو ڈھونڈھ رہا ہے

    اس کی تنہائی کا جنگل

    جن کی یاد سے گونج رہا ہے

    اس کے چاہنے والے کیا کیا

    اس کا نام لیا کرتے تھے

    اس کے نئے پرانے نغمے

    اس کی نثر لطیف کے ٹکڑے

    اس کی اچھوتی دلکش باتیں

    ان کا رشتۂ جاں تھیں گویا

    مجھ کو ان پر رشک آتا تھا

    مجھ کو اس سے عشق نہیں تھا

    میں اک شرمیلا سا انساں

    اس کے گیتوں کا دل دادہ

    دور ہی دور سے

    ڈرتے ڈرتے

    اس کو دیکھ لیا کرتا تھا

    مجھ کو اس سے عشق نہیں تھا

    مجھ کو اس سے عشق نہیں ہے

    لیکن پھر بھی میری آنکھیں

    ان زلفوں کو

    ان آنکھوں کو

    آج بھی ہر سو دیکھ رہی ہیں

    اور وہ آنکھیں

    نغمہ آنکھیں

    حیراں اور متجسس آنکھیں

    آنسو آنکھیں

    ہر رستے پر آن کھڑی ہیں

    اور ہر آنے جانے والے راہی سے یہ

    پوچھ رہی ہیں

    آج مرے عشاق کہاں ہیں

    آج مرے عشاق کہاں ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے