کاغذی پیرہن عشق وہ اعجاز نوا
وہ نقیب ابدی نامہ بر شہر وفا
فکر رنگیں تری پابند مظاہر نہ ہوئی
مجلس رنگ سے آزاد رہا دزد حنا
تو نے انسان کو بخشا وہ شعور جاوید
آ گئی عدل کے ہاتھوں میں ستمگر کی قبا
زخم دل تیرے نہ تھے دہر میں محتاج رفو
چاک داماں کا پتا چاک گریباں سے ملا
جب بھی کی نطق نے تیرے غم دل کی تفسیر
قطرۂ خوں کی طرح لب سے ہوا حرف جدا
فن آئینہ گری جنس ہے کمیاب بہت
عشق آئینہ شکن حسن ہے آئینہ نما
تو ہمہ عشرت خود رفتگیٔ کیف حیات
چشم مخمور تری ساغر و مینا سے خفا
صبح دم سنتی ہے گلشن میں کوئی روح جمیل
نغمۂ گل میں ترے دل کے دھڑکنے کی صدا
لب پہ آیا جو ترا مصرع خوش رنگ کوئی
میں نے جانا کہ سر شاخ کوئی پھول کھلا
پرتو ماہ سے ہے مثل کتاں صفحۂ دل
خرمن برق زده دفتر اشعار مرا
کون محفل میں غزل خواں ہے بیاد غالبؔ
گنگناتی ہے سمرقند و بخارا کی ہوا