آزادی کا ترانا
بھارت کی سرزمین پہ ہر شے کا مسکرانا
یہ دل نشیں فضائیں اور یہ سماں سہانا
ہر ذرہ مہ جبیں ہے پھولوں بھری زمیں ہے
جس پر ہے ناز سب کو وہ تاج بھی یہیں ہے
آزاد یہ گلستاں آزاد آشیانہ
یہ دل نشیں فضائیں اور یہ سماں سہانا
باپو نے اس چمن کو کس پیار سے سنوارا
یہ پریم کی ہے دھرتی یہ دیش ہے ہمارا
دیکھو ہے کتنا پیارا بلبل کا چہچہانا
یہ دل نشیں فضائیں اور یہ سماں سہانا
یہ دیش اک چمن ہے پھولوں کی انجمن ہے
عیسائی ہندو مسلم سب کا یہی وطن ہے
ایسی حقیقتوں کو کہتے نہیں فسانہ
یہ دل نشیں فضائیں اور یہ سماں سہانا
اپنا یہ دیش پیارا اپنا ترنگا پرچم
ذرے ہیں یا ستارے موتی ہیں یا ہے شبنم
ہے خوشگوار کتنا آزاد یہ زمانہ
یہ دل نشیں فضائیں اور یہ سماں سہانا
آغوش میں وطن کے روشن ہیں لعل و گوہر
اترے ہوئے ہیں جیسے دھرتی پہ ماہ و اختر
اشجار گا رہے ہیں جیسے ظفرؔ ترانا
یہ دل نشیں فضائیں اور یہ سماں سہانا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.