آئینہ
اس نے سوچا کہ فسانہ گل کا
دشت کی خشک زباں پر لکھ دوں
اس نے سوچا کہ محبت کے اصول
وقت کے ریگ رواں پر لکھ دوں
سب سنیں دل کے دھڑکنے کی صدا
فرصت جنبش لب سب کو ملے
اس طرح انجمن آرائی ہو
گوشۂ بزم طرب سب کو ملے
سب نے دیکھا در زنداں کا دہن
پئے تعظیم کھلا بند ہوا
بارش سنگ ہوئی پھول کھلے
کون اس راہ میں خورسند ہوا
یہ کوئی قصۂ پارینہ ہے
یا مرے سامنے آئینہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.