ایک آنسو
ہزاروں آنسو جو میری آنکھوں سے گر کے دامن میں کھو گئے ہیں
وہ کھو کے ناموس جذب غم کو ڈبو گئے ہیں
نہ تم کو کچھ پاس اس فغاں کا
نہ مجھ کو احساس اس زیاں کا
مگر وہ آنسو
وہ ایک آنسو جو آنکھ میں تو نہیں ہے دل میں چھپا ہوا ہے
رکا ہوا ہے
وہ ایک آنسو نہیں ہے ارماں ہے زندگی کا
وہ ایک طوفاں ہے آگہی کا
اسے نہ چھیڑو
اسے خدا را ابھی نہ چھیڑو
ابھی تو نوخیز ہے بہت ہی تمہاری نفرت کی شادمانی
جو سچ کہوں تو مری شکستوں کی داستاں ہے بہت پرانی
تمھارے جیسے کئی ستمگر
جو فتح و نصرت کے گیت گا کر گزر گئے ہیں
کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے کدھر گئے ہیں
وہ ایک ننھا سا سہما سمٹا نحیف آنسو
اسے نہ چھیڑو
اگر وہ قطرہ ڈھلک گیا تو
اگر وہ پیمانۂ الم یوں چھلک گیا تو
نہ تم رہو گے نہ میرے آنسو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.