برف زاد
لندن
دھند کا حاکم
دریائے ٹیمز کی آغوش میں لیٹا ہوا
وقت کا پرانا امین
جہاں بگ بین کی دھیمی ضربوں میں
صدیوں کی سانسیں گونجتی ہیں
اور پلوں کے نیچے
پانی نہیں تاریخ بہتی ہے
جہاں اینٹوں کی سرخ دیواریں
بارش میں بھیگ کر
اپنی تنہائی چمکاتی ہیں
اور گلیوں میں چلتی ہوا
کسی پرانے ناول کا ورق الٹتی محسوس ہوتی ہے
اسی لندن کی ایک سرد سمت میں
جہاں صبح بھی دھند کے پردے میں جنم لیتی ہے
اور شامیں چراغوں سے پہلے
سایوں کو روشن کرتی ہیں
وہاں ایک شخص رہتا تھا
جسے لوگ
برف زاد کہتے تھے
وہ آگ کا کاریگر نہیں تھا
نہ مٹی کا خالق
وہ برف تراشتا تھا
اس کے ہاتھوں میں
سردی کی ایک عجیب مہارت تھی
وہ جمے ہوئے پانی سے
پرندے بناتا
جو اڑ نہیں سکتے تھے
گھوڑے بناتا
جو دوڑ نہیں سکتے تھے
اور انسان بناتا
جن کی آنکھوں میں
کوئی خواب نہیں ہوتا تھا
لندن کے سیاح
اس کے کارخانے تک آتے
تصویریں لیتے
حیرت سے سر ہلاتے
مگر کوئی مجسمہ گھر نہ لے جاتا
کہ برف کو گھر لے جانا
گھلتی ہوئی ذمہ داری اٹھانا تھا
ایک دن
جنوبی ہوا کے ساتھ
ایک مسافر لڑکی آئی
اس کے قدموں کے نیچے
لندن کی برف پگھلتی جاتی تھی
اس کی سانس میں حرارت تھی
اور اس کی ہنسی میں
کوئی ایسا موسم
جو اس شہر میں کمیاب تھا
برف زاد نے پہلی بار
اپنے ہاتھوں کی سردی سے خوف محسوس کیا
اس نے چاہا
کہ اس لڑکی کے لیے
ایک ایسا مجسمہ بنائے
جو نہ پگھلے
اس نے سات راتیں
ٹیمز کے کنارے جاگ کر
ایک پیکر تراشا
برف کا نہیں
اپنے یقین کا
مگر صبح ہوئی
تو لندن کی مدھم دھوپ نے
اس کے سارے خواب
قطروں میں بدل دیے
وہ لڑکی
مسکرا کر بولی
جو چیز پگھل جائے
وہی زندہ ہوتی ہے
یہ جملہ
برف زاد کے لیے
بگ بین کی گھنٹی سے بھی بھاری تھا
وہ جس نے ہمیشہ
جماؤ کو کمال سمجھا تھا
پگھلنے کو شکست جانا تھا
آج پہلی بار
اس نے دراڑوں میں
زندگی کی چاپ سنی
اس نے اپنے کارخانے کی کھڑکیاں کھول دیں
دھوپ اندر آئی
مجسمے بہنے لگے
چہرے بگڑنے لگے
اور فرش پر
پانی کی ایک بے ترتیب ندی بہنے لگی
لوگ چیخے
تم نے اپنی عمر کا ہنر
ضائع کر دیا
مگر برف زاد
اس پانی میں ننگے پاؤں کھڑا تھا
اسے لگا
وہ پہلی بار
زمین کو چھو رہا ہے
وہ لڑکی
چلی گئی
جنوب کی طرف
اپنے موسموں کی طرف
مگر اس کے بعد
لندن کی سرد گلیوں میں
ایک نئی خبر پھیل گئی
برف زاد اب بھی
مجسمے بناتا ہے
مگر وہ انہیں
بند کمروں میں نہیں رکھتا
وہ جان بوجھ کر
انہیں دھوپ کے سامنے رکھ دیتا ہے
تاکہ لوگ دیکھ سکیں
کہ خوبصورتی
ہمیشہ قائم رہنے کا نام نہیں
کبھی کبھی
ختم ہو جانے کا نام بھی ہے
اور جب بھی
ٹیمز کے اوپر
دھوپ کی ہلکی لکیر اترتی ہے
وہ مسکرا کر کہتا ہے
آؤ
آج پھر کچھ پگھلائیں
آج پھر کچھ پگھلائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.