Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

برف زاد

MORE BYغلام عباس ساغر

    لندن

    دھند کا حاکم

    دریائے ٹیمز کی آغوش میں لیٹا ہوا

    وقت کا پرانا امین

    جہاں بگ بین کی دھیمی ضربوں میں

    صدیوں کی سانسیں گونجتی ہیں

    اور پلوں کے نیچے

    پانی نہیں تاریخ بہتی ہے

    جہاں اینٹوں کی سرخ دیواریں

    بارش میں بھیگ کر

    اپنی تنہائی چمکاتی ہیں

    اور گلیوں میں چلتی ہوا

    کسی پرانے ناول کا ورق الٹتی محسوس ہوتی ہے

    اسی لندن کی ایک سرد سمت میں

    جہاں صبح بھی دھند کے پردے میں جنم لیتی ہے

    اور شامیں چراغوں سے پہلے

    سایوں کو روشن کرتی ہیں

    وہاں ایک شخص رہتا تھا

    جسے لوگ

    برف زاد کہتے تھے

    وہ آگ کا کاریگر نہیں تھا

    نہ مٹی کا خالق

    وہ برف تراشتا تھا

    اس کے ہاتھوں میں

    سردی کی ایک عجیب مہارت تھی

    وہ جمے ہوئے پانی سے

    پرندے بناتا

    جو اڑ نہیں سکتے تھے

    گھوڑے بناتا

    جو دوڑ نہیں سکتے تھے

    اور انسان بناتا

    جن کی آنکھوں میں

    کوئی خواب نہیں ہوتا تھا

    لندن کے سیاح

    اس کے کارخانے تک آتے

    تصویریں لیتے

    حیرت سے سر ہلاتے

    مگر کوئی مجسمہ گھر نہ لے جاتا

    کہ برف کو گھر لے جانا

    گھلتی ہوئی ذمہ داری اٹھانا تھا

    ایک دن

    جنوبی ہوا کے ساتھ

    ایک مسافر لڑکی آئی

    اس کے قدموں کے نیچے

    لندن کی برف پگھلتی جاتی تھی

    اس کی سانس میں حرارت تھی

    اور اس کی ہنسی میں

    کوئی ایسا موسم

    جو اس شہر میں کمیاب تھا

    برف زاد نے پہلی بار

    اپنے ہاتھوں کی سردی سے خوف محسوس کیا

    اس نے چاہا

    کہ اس لڑکی کے لیے

    ایک ایسا مجسمہ بنائے

    جو نہ پگھلے

    اس نے سات راتیں

    ٹیمز کے کنارے جاگ کر

    ایک پیکر تراشا

    برف کا نہیں

    اپنے یقین کا

    مگر صبح ہوئی

    تو لندن کی مدھم دھوپ نے

    اس کے سارے خواب

    قطروں میں بدل دیے

    وہ لڑکی

    مسکرا کر بولی

    جو چیز پگھل جائے

    وہی زندہ ہوتی ہے

    یہ جملہ

    برف زاد کے لیے

    بگ بین کی گھنٹی سے بھی بھاری تھا

    وہ جس نے ہمیشہ

    جماؤ کو کمال سمجھا تھا

    پگھلنے کو شکست جانا تھا

    آج پہلی بار

    اس نے دراڑوں میں

    زندگی کی چاپ سنی

    اس نے اپنے کارخانے کی کھڑکیاں کھول دیں

    دھوپ اندر آئی

    مجسمے بہنے لگے

    چہرے بگڑنے لگے

    اور فرش پر

    پانی کی ایک بے ترتیب ندی بہنے لگی

    لوگ چیخے

    تم نے اپنی عمر کا ہنر

    ضائع کر دیا

    مگر برف زاد

    اس پانی میں ننگے پاؤں کھڑا تھا

    اسے لگا

    وہ پہلی بار

    زمین کو چھو رہا ہے

    وہ لڑکی

    چلی گئی

    جنوب کی طرف

    اپنے موسموں کی طرف

    مگر اس کے بعد

    لندن کی سرد گلیوں میں

    ایک نئی خبر پھیل گئی

    برف زاد اب بھی

    مجسمے بناتا ہے

    مگر وہ انہیں

    بند کمروں میں نہیں رکھتا

    وہ جان بوجھ کر

    انہیں دھوپ کے سامنے رکھ دیتا ہے

    تاکہ لوگ دیکھ سکیں

    کہ خوبصورتی

    ہمیشہ قائم رہنے کا نام نہیں

    کبھی کبھی

    ختم ہو جانے کا نام بھی ہے

    اور جب بھی

    ٹیمز کے اوپر

    دھوپ کی ہلکی لکیر اترتی ہے

    وہ مسکرا کر کہتا ہے

    آؤ

    آج پھر کچھ پگھلائیں

    آج پھر کچھ پگھلائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے