Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شہر کاغذ کا ایک ٹکڑا

ادیب سہیل

شہر کاغذ کا ایک ٹکڑا

ادیب سہیل

MORE BYادیب سہیل

    یہ بچیاں عائشہ زبیدہ

    زرینہ کلثوم

    شاہ رہ سے پرے جو اک دوسرے کے سر سے

    جوئیں پکڑنے میں منہمک ہیں

    یہ اس نگر کی ہیں رہنے والی

    جو ریل کی پٹریوں کے پہلو میں تا حد نظر بسا ہے

    یہاں کے گھر اس طرح سے با ہم دگر گتھے ہیں

    کہ ان کے اندر شعاع کی دسترس نہیں ہے

    ہوائے تازہ بھی خوف کھاتی ہے

    بھولے بھٹکے کبھی ادھر سے گزر گئی تو کیا تعفن سے داغ دار اس نے اپنا دامن

    یہ بچیاں عائشہ زبیدہ

    زرینہ کلثوم

    ردی کاغذ کے چند ٹکڑوں کی جستجو میں

    تمام دن بوریاں سنبھالے گلی گلی خاک چھانتی ہیں

    کہیں نظر آ گیا انہیں کوئی ایک ٹکڑا تو اس طرح اس پہ ٹوٹتی ہیں

    کہ جیسے ہاتھ آ گئی ہو دولت

    یہ بچیاں شہر میں ہیں لیکن

    تمام شہری مسرتوں سے ہیں نا شناسا

    کچھ اس ادا سے گزر بسر ان کی ہو رہی ہے

    کہ جیسے ان کی نظر میں ہو شہر ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے