شہر کاغذ کا ایک ٹکڑا
یہ بچیاں عائشہ زبیدہ
زرینہ کلثوم
شاہ رہ سے پرے جو اک دوسرے کے سر سے
جوئیں پکڑنے میں منہمک ہیں
یہ اس نگر کی ہیں رہنے والی
جو ریل کی پٹریوں کے پہلو میں تا حد نظر بسا ہے
یہاں کے گھر اس طرح سے با ہم دگر گتھے ہیں
کہ ان کے اندر شعاع کی دسترس نہیں ہے
ہوائے تازہ بھی خوف کھاتی ہے
بھولے بھٹکے کبھی ادھر سے گزر گئی تو کیا تعفن سے داغ دار اس نے اپنا دامن
یہ بچیاں عائشہ زبیدہ
زرینہ کلثوم
ردی کاغذ کے چند ٹکڑوں کی جستجو میں
تمام دن بوریاں سنبھالے گلی گلی خاک چھانتی ہیں
کہیں نظر آ گیا انہیں کوئی ایک ٹکڑا تو اس طرح اس پہ ٹوٹتی ہیں
کہ جیسے ہاتھ آ گئی ہو دولت
یہ بچیاں شہر میں ہیں لیکن
تمام شہری مسرتوں سے ہیں نا شناسا
کچھ اس ادا سے گزر بسر ان کی ہو رہی ہے
کہ جیسے ان کی نظر میں ہو شہر ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.