حرفوں میں بسے فاصلے
سنو
اے سخن کے راز داں
اے لفظوں کے امین
تم شاید کسی دور نگر کی شام میں
کھڑکی کے پاس بیٹھے
ڈوبتے سورج کو نظم بنا رہے ہو
اور میں یہاں
اپنی رات کی دہلیز پر
تمہارے مصرعوں کی آہٹ سن رہی ہوں
ہم دونوں کے درمیان
نہ جانے کتنے موسموں کا فاصلہ ہے
کتنے شہر
کتنی سڑکیں
کتنی خاموشیاں
مگر عجیب بات ہے
تمہاری تحریر جب صفحے پر ابھرتی ہے
تو یوں لگتا ہے
جیسے میرے دل کی دھڑکن
تمہاری انگلیوں کی جنبش سے بندھی ہو
تم لفظ نہیں لکھتے
تم دریچے کھولتے ہو
اور ان دریچوں سے
ہوا کے نرم جھونکے
میرے کمرۂ جاں میں داخل ہوتے ہیں
تمہاری شاعری
کوئی بلند دعویٰ نہیں کرتی
وہ بس چپکے سے آتی ہے
اور میرے اندر
ایک چراغ رکھ جاتی ہے
پھر میں دیکھتی ہوں
وہی چراغ
بادلوں کو رنگ دیتا ہے
بارش کو نغمہ بنا دیتا ہے
اور چاند کو
محبت کی خاموش مہر
سنو
اے مجنون شاعر
آج ایک تنہا دل نے
اپنی ساری اداسی
حرفوں کے کٹورے میں رکھ کر
تمہارے نام کر دی ہے
میں نے رات کی پیشانی سے
چند ستارے اتارے
اور انہیں سیاہی میں گھول کر
ایک نظم تراشی ہے
یہ نظم
کوئی سوال نہیں
کوئی شکوہ نہیں
یہ صرف ایک دعوت ہے
کہ کبھی
کسی شام
تم میرے روبرو بیٹھو
اور میں تمہیں سناؤں
وہ سب کچھ
جو تم نے لکھا تو نہیں
مگر میں نے پڑھ لیا
سنو گے ناں
اے سخن کے مسافر
اگر تم آؤ
تو شاید فاصلے
صرف نقشے کی لکیر رہ جائیں
اور ہم
ایک ہی آسمان کے نیچے
ایک ہی لفظ کے معنی بن جائیں
ایک ہی لفظ کے معنی بن جائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.