دوستی آپ سے ہے مدت کی
تلخ وہموں کے سخت پہرے میں
سوچ لے جائے ایسے جنگل میں
غم کی بیگار جس میں دل بھگتے
کچھ نہ سوجھے بسیط سائے میں
منزلیں چھوٹ جائیں رستے میں
پے بہ پے ٹھوکریں ہیں پازیبیں
گونج بن بن کے چوڑیاں کھنکیں
جھمکیوں کو طیور چھو کے اڑیں
پھیلے ہاتھوں پہ آ گریں پتے
آہٹیں اجنبی درندوں کی
ضرب تیشہ کی طرح دل پہ پڑیں
اوڑھنی شاخ شاخ الجھائے
ذہن سوچے تو روح ڈر جائے
آپ سے ہے محبتوں کو ثبات
ایسے میں آپ ہی کا روشن ہاتھ
میری انگلی کو تھام لیتا ہے
کتنی شفقت سے میرے کانوں میں
کوئی میرا ہی نام لیتا ہے
کرنیں رم جھم برسنے لگتی ہیں
منزلیں راستوں سے جھانکتی ہیں
حوصلے مور بن کے ناچتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.