مدحت سے مہک اٹھتے تھے گلزار مدینہ
مدحت سے مہک اٹھتے تھے گلزار مدینہ
مکے سے نظر آتے تھے آثار مدینہ
چلتا ہے تو پھر پیچھے پلٹ کر نہیں تکتا
اڑتا ہی چلا جاتا ہے رہوار مدینہ
خود اپنے کمالات سے مسحور ہے ہجرت
اک مرکزی کردار ہے کردار مدینہ
انصار ہوئے کیسی سعادت سے سرافراز
کونین کا سردار ہے سردار مدینہ
دنیا میں مثیل ان کا کوئی اور نہیں ہے
دنیا میں نظیر اپنی ہیں انصار مدینہ
زائر کو عطا کرتے ہیں خود اذن حضوری
مہمانوں سے خود ملتے ہیں سرکار مدینہ
دنیا میں علاج اس کا کہیں اور نہیں ہے
رہتا ہے مدینے میں ہی بیمار مدینہ
جو چاہے خریدو یہاں طاعت کے عوض تم
دن رات کھلا رہتا ہے بازار مدینہ
مکے سے نکلنا پڑا کس حال زبوں میں
داخل ہوئے کس شان سے سالار مدینہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.