Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مدحت سے مہک اٹھتے تھے گلزار مدینہ

محمد سلیم طاہر

مدحت سے مہک اٹھتے تھے گلزار مدینہ

محمد سلیم طاہر

MORE BYمحمد سلیم طاہر

    مدحت سے مہک اٹھتے تھے گلزار مدینہ

    مکے سے نظر آتے تھے آثار مدینہ

    چلتا ہے تو پھر پیچھے پلٹ کر نہیں تکتا

    اڑتا ہی چلا جاتا ہے رہوار مدینہ

    خود اپنے کمالات سے مسحور ہے ہجرت

    اک مرکزی کردار ہے کردار مدینہ

    انصار ہوئے کیسی سعادت سے سرافراز

    کونین کا سردار ہے سردار مدینہ

    دنیا میں مثیل ان کا کوئی اور نہیں ہے

    دنیا میں نظیر اپنی ہیں انصار مدینہ

    زائر کو عطا کرتے ہیں خود اذن حضوری

    مہمانوں سے خود ملتے ہیں سرکار مدینہ

    دنیا میں علاج اس کا کہیں اور نہیں ہے

    رہتا ہے مدینے میں ہی بیمار مدینہ

    جو چاہے خریدو یہاں طاعت کے عوض تم

    دن رات کھلا رہتا ہے بازار مدینہ

    مکے سے نکلنا پڑا کس حال زبوں میں

    داخل ہوئے کس شان سے سالار مدینہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے