Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہمارا شغل جو ذکر رسول ہو جائے

جمیل احمد قادری سالمی گنوری

ہمارا شغل جو ذکر رسول ہو جائے

جمیل احمد قادری سالمی گنوری

MORE BYجمیل احمد قادری سالمی گنوری

    ہمارا شغل جو ذکر رسول ہو جائے

    جو نکلے بات زباں سے قبول ہو جائے

    دعا ہماری یہ یارب قبول ہو جائے

    ہمارا دل بھی دیار رسول ہو جائے

    تجلیوں کا نظر پر نزول ہو جائے

    مجھے جو خواب میں دید رسول ہو جائے

    جو نعت گوش گزار رسول ہو جائے

    تو ساری عمر کی کاوش وصول ہو جائے

    تمام عمر بھٹکتا پھروں میں گلیوں میں

    مدینہ جا کے یہ دانستہ بھول ہو جائے

    ہر ایک منزل عرفاں مرے قدم چومے

    مری حیات جو وقف رسول ہو جائے

    حقیقتاً وہی میرے نبی کو پیارا ہے

    غم حسین میں جو دل ملول ہو جائے

    حیات مومنہ دنیا میں اک نمونہ ہے

    اگر شعار حیائے بتول ہو جائے

    بلاوا آئے مدینہ کا سر کے بل پہنچوں

    جو خار راہ میں آئے وہ پھول ہو جائے

    اگر خلوص و محبت نہ اس میں شامل ہو

    تری ہر ایک عبادت فضول ہو جائے

    مرا یقین ہے شامل درود جس میں ہو

    دعا وہ عرش پہ پہنچے قبول ہو جائے

    بڑھے ہیں ابرہہ اللہ تیرے گھر کی طرف

    کہ سنگ ریزوں کا ان پر نزول ہو جائے

    صدا اذان بلالی کی ہر طرف گونجے

    عمر کے دور کا نافذ اصول ہو جائے

    الٰہی موت جو آئے نبی کی چوکھٹ ہو

    جمیلؔ قادری مٹ مٹ کے دھول ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے