ہمارا شغل جو ذکر رسول ہو جائے
ہمارا شغل جو ذکر رسول ہو جائے
جو نکلے بات زباں سے قبول ہو جائے
دعا ہماری یہ یارب قبول ہو جائے
ہمارا دل بھی دیار رسول ہو جائے
تجلیوں کا نظر پر نزول ہو جائے
مجھے جو خواب میں دید رسول ہو جائے
جو نعت گوش گزار رسول ہو جائے
تو ساری عمر کی کاوش وصول ہو جائے
تمام عمر بھٹکتا پھروں میں گلیوں میں
مدینہ جا کے یہ دانستہ بھول ہو جائے
ہر ایک منزل عرفاں مرے قدم چومے
مری حیات جو وقف رسول ہو جائے
حقیقتاً وہی میرے نبی کو پیارا ہے
غم حسین میں جو دل ملول ہو جائے
حیات مومنہ دنیا میں اک نمونہ ہے
اگر شعار حیائے بتول ہو جائے
بلاوا آئے مدینہ کا سر کے بل پہنچوں
جو خار راہ میں آئے وہ پھول ہو جائے
اگر خلوص و محبت نہ اس میں شامل ہو
تری ہر ایک عبادت فضول ہو جائے
مرا یقین ہے شامل درود جس میں ہو
دعا وہ عرش پہ پہنچے قبول ہو جائے
بڑھے ہیں ابرہہ اللہ تیرے گھر کی طرف
کہ سنگ ریزوں کا ان پر نزول ہو جائے
صدا اذان بلالی کی ہر طرف گونجے
عمر کے دور کا نافذ اصول ہو جائے
الٰہی موت جو آئے نبی کی چوکھٹ ہو
جمیلؔ قادری مٹ مٹ کے دھول ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.