Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تھی ان کے در پہ لٹانی سنبھال کر رکھی

ثناء اللہ ظہیر

تھی ان کے در پہ لٹانی سنبھال کر رکھی

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    تھی ان کے در پہ لٹانی سنبھال کر رکھی

    متاع اشک پرانی سنبھال کر رکھی

    کہ ایک دن اسے آقا کی نعت ہونا تھا

    غزل نے اپنی جوانی سنبھال کر رکھی

    وہ نعت جس سے مہکتی ہے شب کی تنہائی

    وہ نعت رات کی رانی سنبھال کر رکھی

    حضور آپ کی مدحت کے واسطے میں نے

    یہ حرف حرف روانی سنبھال کر رکھی

    ظہیرؔ ریش مبارک کا احترام کیا

    حضور کی یہ نشانی سنبھال کر رکھی

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے