Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سب کا تھا سارا دھیان کاغذ پر

اظہرالدین اظہر

سب کا تھا سارا دھیان کاغذ پر

اظہرالدین اظہر

MORE BYاظہرالدین اظہر

    سب کا تھا سارا دھیان کاغذ پر

    تھا وہ دشمن مہان کاغذ پر

    ظالموں نے زبان کاٹ تو دی

    لکھ گیا وہ بیان کاغذ پر

    ایک دوجے کو دھوکہ دیتے ہیں

    ڈھونڈتے ہیں امان کاغذ پر

    ہو گیا گھر کا ایسے بٹوارا

    بچ گیا بس نشان کاغذ پر

    بھائی کے حصے باغ آئے ہیں

    میں نے پائی دکان کاغذ پر

    ہے وہ مشہور کڑوی باتوں میں

    میٹھی اس کی زبان کاغذ پر

    اس نے فٹ پاتھ پر بنا ڈالا

    خوبصورت مکان کاغذ پر

    تم بھروسے کی بات مت کرنا

    ہے بھروسے کی جان کاغذ پر

    کل تلک کہہ رہا تھا بیگانہ

    لکھ گیا آج جان کاغذ پر

    کہہ رہا ہے وہ کہنے دو اظہرؔ

    تم لکھو داستان کاغذ پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے