سب کا تھا سارا دھیان کاغذ پر
سب کا تھا سارا دھیان کاغذ پر
تھا وہ دشمن مہان کاغذ پر
ظالموں نے زبان کاٹ تو دی
لکھ گیا وہ بیان کاغذ پر
ایک دوجے کو دھوکہ دیتے ہیں
ڈھونڈتے ہیں امان کاغذ پر
ہو گیا گھر کا ایسے بٹوارا
بچ گیا بس نشان کاغذ پر
بھائی کے حصے باغ آئے ہیں
میں نے پائی دکان کاغذ پر
ہے وہ مشہور کڑوی باتوں میں
میٹھی اس کی زبان کاغذ پر
اس نے فٹ پاتھ پر بنا ڈالا
خوبصورت مکان کاغذ پر
تم بھروسے کی بات مت کرنا
ہے بھروسے کی جان کاغذ پر
کل تلک کہہ رہا تھا بیگانہ
لکھ گیا آج جان کاغذ پر
کہہ رہا ہے وہ کہنے دو اظہرؔ
تم لکھو داستان کاغذ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.