ناکردہ خطاؤں کی جو تعزیر نئی ہے
ناکردہ خطاؤں کی جو تعزیر نئی ہے
دل میرا دکھانے کی یہ تدبیر نئی ہے
اس سال چمن میں بہ فراوانیٔ یک رنگ
اوراق گل و لالہ پہ تصویر نئی ہے
ایسا نہ ہو مٹ جائے اسے غور سے پڑھ لے
مٹی پہ مرے خون کی تحریر نئی ہے
آزاد ہوں پر اپنے خیالات میں محبوس
دیوانہ نیا ہوں مری زنجیر نئی ہے
یہ فکر نہیں کیا ہو تگ و تاز کا حاصل
میں خوش ہوں مری کاوش تعمیر نئی ہے
بہتر ہے مجھے اس کی ذرا سخت سزا دے
خاموشیٔ پیہم مری تقصیر نئی ہے
اس دور کا میں یوسف ثانی ہوں مرے پاس
اس خواب شہہ مصر کی تعبیر نئی ہے
اک بھید چھپا ہے پس دیوار خموشی
اس ٹھہرے ہوئے پانی کی تفسیر نئی ہے
بے مہریٔ احباب کا شکوہ نہیں شاہیںؔ
اس شہر کی مٹی ہی میں تاثیر نئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.