ایک قیدی نے یہ دکھ درد لگاتار سہے
ایک قیدی نے یہ دکھ درد لگاتار سہے
جسم نے جرم کیے روح نے آزار سہے
کیسے اس بار گہہ ارض کو ہمسر جانے
کیسے یہ ضرب خم گنبد دوار سہے
سامنے کوئی نہ تھا کس سے شکایت کرتے
زخم سہنے تھے خموشی سے کئی بار سہے
کام ہر حال میں آیا ہے ضمیر مضمر
لغزش فکر کے اس ڈھال نے سب وار سہے
تم ہمہ وقت ہو آمادۂ احساں لیکن
بوجھ پھر بوجھ ہے کیوں شانۂ خود دار سہے
کھول دے بند بدن رخنۂ در کی خاطر
سقف کا بار بھی سر پر قد دیوار سہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.